17 اشعار

کیوں شمع جلائی آخر شب

Kyun Shama Jalai Aakhir Shab

خوش آمدید کہوں کیا یہ شب عذاب کی ہےیہاں ملی ہو جو منزل شکست خواب کی

یہ میں ہوں یا کوئی آنسو تمہاری پلکوں کایہ تم ہو یا کوئی الجھن مرے شباب کی ہے

مرے وجود کو دیکھو نہ اس توجہ سےیہ آفتاب نہیں لاش آفتاب کی ہے

تم آنسوؤں کو مری جان پڑھ نہ پاؤگییہ داستاں کسی بھیگی ہوئی کتاب کی ہے

نہ پونچھو اپنے دوپٹے سے میری پیشانییہ خاک راہ تو سوغات انقلاب کی ہے

شباب چھوڑ گیا دے کے ایک درد سفریہ یادگار اسی کوچۂ خراب کی ہے

عجیب سوچ میں ہے زندگی کا دوراہانہ اب سکون کی صورت نہ اضطراب کی ہے

یہ لب ہیں یا کسی گزری ہوئی بہار کے پھولبدن ہے یا کوئی خالی دکاں شراب کی ہے

میں سن رہا ہوں تمہارے لبوں کی خاموشیغزل غزل مرے ماضی کے انتخاب کی ہے

بھٹک رہا ہوں میں اس بے دلی کے صحرا میںجہاں گناہ کا ڈر ہے نہ دھن ثواب کی ہے

تمہارے رخ پہ ہے آئینہ ٹوٹنے کا نشاںمہک مشام میں سوکھے ہوئے گلاب کی ہے

یہ تیس سال کی دوری یہ ایک روز کا قربسکوں کا موڑ بھی تصویر اضطراب کی ہے

ندی کے سامنے کھلتا ہے گھر کا دروازہمرے مکان کے پیچھے گلی سراب کی ہے

تمہارا درد مری شاعری کے کام آیایہ روشنی اسی گم گشتہ ماہتاب کی ہے

کہاں سے لاؤں ستارے جو تم کو نذر کروںیہ شب تو روح کے داغوں کے احتساب کی ہے

میں انتظار میں تھا جب تو ہاتھ چھوڑ دیایہاں ملی ہو جو منزل شکست خواب کی ہے

میں آنسوؤں کو کہوں کیا کہ چھلکے پڑتے ہیںخوش آمدید کہوں کیا کہ شب عذاب کی ہے

— قیصر الجعفری