11 اشعار

پچھتاوا

Pachtawa

در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیںآؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیں

اپنی قسمت میں لکھے ہیں جو وراثت کی طرحآؤ اک بار وہ زخم دل و جاں دیکھ آئیں

آؤ بھیگی ہوئی آنکھوں سے پڑھیں نوحۂ دلآؤ بکھرے ہوئے رشتوں کا زیاں دیکھ آئیں

جس سے ٹکرا کے گرے تھے کبھی ارباب خردآؤ نزدیک سے وہ سنگ گراں دیکھ آئیں

وقت جاتے ہوئے کیا لکھ گیا پیشانی پرآؤ آشفتگیٔ عہد رواں دیکھ آئیں

ٹوٹا ٹوٹا ہوا دل لے کے پھریں گلیوں میںکچی مٹی کے کھلونوں کی دکاں دیکھ آئیں

روشنی کے کہیں آثار تو باقی ہوں گےآؤ پگھلی ہوئی شمعوں کا دھواں دیکھ آئیں

جن درختوں کے تلے رقص صبا ہوتا تھاسوکھے پتوں کا برسنا بھی وہاں دیکھ آئیں

اڑ رہے ہوں گے کہیں جھنڈ ابابیلوں کےآؤ سنسان دریچوں کا سماں دیکھ آئیں

اب فرشتوں کے سوا کوئی نا آتا ہوگاکون دیتا ہے خرابے میں اذاں دیکھ آئیں

مدتوں بعد مہاجر کی طرح آئے ہیںروٹھ جائے نہ کھنڈر آؤ میاں دیکھ آئیں

— قیصر الجعفری