5 اشعار

مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا

Mayusi ki barf padi thi lekin mausam sard na tha

مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھاآج سے پہلے دل میں یارو! اتنا ٹھنڈا درد نہ تھا

تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیںزخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد نہ تھا

پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار نہ تھیشہر میں تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد نہ تھا

مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگپتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد نہ تھا

حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیاسینے کا پتھر تھا قیصرؔ، غم دامن کی گرد نہ تھا

— قیصر الجعفری