8 اشعار

وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھا

Woh Ek Khaima-e Shab Jis Ka Naam Duniya Tha

وہ ایک خیمۂ شب جس کا نام دنیا تھاکبھی دھواں تو کبھی چاندنی سا لگتا تھا

ہماری آگ بھی تاپی ہمیں بجھا بھی دیاجہاں پڑاؤ کیا تھا عجیب صحرا تھا

ہوا میں میری انا بھیگتی رہی ورنہمیں آشیانے میں برسات کاٹ سکتا تھا

جو آسمان بھی ٹوٹا گرا مری چھت پرمرے مکاں سے کسی بد دعا کا رشتہ تھا

تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھیقسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا

زمیں پہ ٹوٹ کے کیسے گرا غرور اس کاابھی ابھی تو اسے آسماں پہ دیکھا تھا

بھنور لپیٹ کے نیچے اتر گیا شایدابھی وہ شام سے پہلے ندی پہ بیٹھا تھا

میں شاخ زرد کے ماتم میں رہ گیا قیصرؔخزاں کا زہر شجر کی جڑوں میں پھیلا تھا

— قیصر الجعفری