5 اشعار

نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئے

Na sawal-e-jaam na zikr-e-may usi bankpan se chale gaye

نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئےترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئے

کبھی تو نے سوچا بھی صبح نو کہ تمام رات گزار کےجنہیں ڈس گئی تری روشنی وہ کہاں وطن سے چلے گئے

مجھے دھن کہ کاکل زندگی جو بکھر گئی ہے سنوار دوںتمہیں غم کہ عشق کے تذکرے مرے شعر و فن سے چلے گئے

ترے گیسوؤں سے عزیز تھیں جنہیں کائنات کی الجھنیںترا غم سمیٹ کے روح میں تری انجمن سے چلے گئے

مرے دل کو قیصرؔ بے نوا کوئی غم شکست نہ دے سکاکہ الجھ کے سیکڑوں حادثے مرے بانکپن سے چلے گئے

— قیصر الجعفری