11 اشعار

تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتا

Tum se do harf ka khat bhi nahin likha jaata

تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتاجاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتا

دل کا احوال نہ پوچھو کہ بہت روز ہوئےاس خرابے کی طرف میں نہیں آتا جاتا

تشنگی نے کبھی دریاؤں سے ملنے نہ دیاہم جدھر جاتے اسی راہ میں صحرا جاتا

زندگی! رہنے بھی دے سوچ کی حد ہوتی ہےاتنا سوچا ہے کہ صدیوں میں نہ سوچا جاتا

اس کو انداز تغافل بھی نہ آیا اب تکبھولنے ہی کو سہی یاد تو رکھا جاتا

ہائے وہ دور کہ آنسو بھی نہ تھے آنکھوں میںاور چہرا تھا کہ بے روئے بھی بھیگا جاتا

بھولتا ہی نہیں وہ مرحلۂ راز و نیازہم مناتے تو کوئی اور بھی روٹھا جاتا

پس دیوار کا منظر بھی گیا اپنے ساتھصحن ویران سے پتھر کہاں پھینکا جاتا

شام ہوتے ہی کوئی شمع جلا رکھنی تھیجب دریچے سے ہوا آتی تو دیکھا جاتا

روشنی اپنے گھروندوں میں چھپی تھی ورنہشہر کے شہر پہ شب خون نہ مارا جاتا

اتنے آنسو مری آنکھوں میں کہاں تھے قیصرؔعمر بھر دل کے جنازے پہ جو رویا جاتا

— قیصر الجعفری