7 اشعار

دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت

Dilkashi, Uns, Mohabbat, Aqeedat Aur Ibadat

دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت

«دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادتوادی عشق میں سب تھا مگر سکوں کے سوا

عشق کی چھٹی منزل پر پہنچے تو دیکھاکچھ بھی نہ پایا وہاں پر جنوں کے سوا

یوں تو شہر لیلی کا ہر شخص دیوانہ تھاپتھر کسی نے بھی نہ کھائے مگر مجنوں کے سوا

اسکے نگر سے ائے ہر شخص نے بتایا مجھےدل نشین تھے نظارے مگر فسوں کے سوا

مرتی کبھی نہ سسی بھی عشق کے ہاتھوںکر لیتی محبت وہ کسی سے بھی پنوں کے سوا

کچھ ہنر اس کو بھی اتا تھا گفتار حسین کاباتیں اس کی اچھی تھی ساری مگر کوں کے سوا

اب کیسے بتاتا میں قمر اپنے حجرے کا عالمکہ کچھ بھی نہیں ہے وہاں اتش دروں کے سوا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں