10 اشعار

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا

Tum Se Bichhad Kar Wahshaton Ka Aaina Ho Gaya

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا

«تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیادل ہر اک بے نام صدمے کا نشانہ ہو گیا

یاد کی بارش میں بھیگے زخم ہنستے ہی رہےتیرا جانا زندگی کا ایک قصہ ہو گیا

خواب سب ٹوٹے تو آنکھوں میں عجب سناٹا تھارات بھر دل بے بسی کا کارخانہ ہو گیا

ایک پل میں چھن گئی دنیا، بدل سا ہی گیاجو کبھی میرا تھا وہی اجنبی سا ہو گیا

تجھ سے منسوب تھی جو ہر ایک دعا کی روشنیدور جا کر وہی رشتہ بے وفا ہو گیا

خامشی نے اوڑھ لی جب ہجر کی کالی رداہر سخن سینے میں اک چیختا نغمہ ہو گیا

ہم نے ہر درد کو چہرے پہ سجا کر رکھاتبسم بھی ترے بعد اک بلا ہو گیا

تنہائی نے لکھ دی تقدیر آنکھوں کے لیےہر نظر میں ہجر کا ہی تذکرہ ہو گیا

دل نے کب مانا کہ یہ سب عارضی سا دکھ ہےوقت گزرا تو یہی دکھ مستقل سا ہو گیا

قمرؔ اب کس سے کہو گے دل کا یہ بکھرا ہوا حالعشق میں جینا بھی اک وحشی قرینہ ہو گیا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں