ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے
کلام: راجا اکرام قمر
ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہےنظر کے سامنے ہو کر بھی وہ جبیں کہیں اور ہے
یہ اداسی، یہ ہجر، یہ خامشی کا سلسلہلبوں پہ مسکراہٹ ہے، پر یقیں کہیں اور ہے
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہےنظر کے سامنے ہو کر بھی وہ جبیں کہیں اور ہے
یہ اداسی، یہ ہجر، یہ خامشی کا سلسلہلبوں پہ مسکراہٹ ہے، پر یقیں کہیں اور ہے
کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گےہم محبت کی اک مہکتی نشانی چھوڑ جائیں گے
ہماری باتوں سے مکمل افسانے ہوا کریں گےہم لفظوں کی اک ایسی روانی چھوڑ جائیں گے
درد دل سب کو سنا کے دیکھ لیاترے شہر میں آ کے دیکھ لیا
سنگدل کے سنگدل ہی رہےداغ جگر دکھا کے دیکھ لیا