6 اشعار

جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں

Jab se bichhda hai tu bikhar gaya hoon

جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں

«جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوںزندہ رہتے ہوئے بھی مر گیا ہوں

ڈسنے لگتی ہے مجھ کو تنہائیمیں ترے بعد جب بھی گھر گیا ہوں

ائینے سے نہ چھپ سکا مرا کربائینہ دیکھتے ہی ڈر گیا ہوں

کھا گئی ہے تجھے کسی کی نظرمیں خزاؤں کا ہو شجر گیا ہوں

بہر و بر کی تمیز تجھ سے تھیمیں سرابوں میں پھر اتر گیا ہوں

ایک تیری تلاش میں اے قمرجا بجا اور در بدر گیا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں