7 اشعار

کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے

Kuch yaadon ki shakal mein kahani chhoṛ jaayenge

کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے

«کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گےہم محبت کی اک مہکتی نشانی چھوڑ جائیں گے

ہماری باتوں سے مکمل افسانے ہوا کریں گےہم لفظوں کی اک ایسی روانی چھوڑ جائیں گے

غزل بیاں ہو گئی عاشقوں کی زبان سے ہماریہم شعروں میں ایسی سِحْر بَیانی چھوڑ جائیں گے

دوست کبھی نہ پاؤ گے ہم سا کوئی بھی دوستوہم جہاں میں اپنے جیسا نہ ثانی چھوڑ جائیں گے

انداز اپنا لیں گے لوگ ہماری ہی گفتار کاہم کچھ اس طرح کی سخن بیانی چھوڑ جائیں گے

یاد جس کو پھر کرے گا زمانہ برسوں یاروہم ایک اسی داستاں عالم جوانی چھوڑ جائیں گے

کچھ اور نہ بھی چھوڑ سکے تو وعدہ رہا قمرزندگی کی محفلوں میں اشک فشانی چھوڑ جائیں گے

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں