5 اشعار

قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں

Qamar sahar ko jo taare bhi chhupne lagte hain

قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں

«قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیںتب ان کے وعدے بھی ہم کو بہانے لگتے ہیں

نہ اختیار میں رہتا ہے دل عجیب مرایہ مان جاتا ہے، جب وہ بہلنے لگتے ہیں

بس ایک مشغلہ تنہائی میں ہمارا ہےپرانی یادوں پہ انسو بہانے لگتے ہیں

نہ پوچھو خوف کا عالم، نہیں بیاں ہوگاہم اپنے شہر میں جاتے ہوئے بھی ڈرنے لگتے ہیں

عزیز چائے ہوں جیسے بھی، یہ حقیقت ہےدیار غیر میں سب یاد انے لگتے ہیں

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں