تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا
کلام: راجا اکرام قمر
تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیادل ہر اک بے نام صدمے کا نشانہ ہو گیا
یاد کی بارش میں بھیگے زخم ہنستے ہی رہےتیرا جانا زندگی کا ایک قصہ ہو گیا
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیادل ہر اک بے نام صدمے کا نشانہ ہو گیا
یاد کی بارش میں بھیگے زخم ہنستے ہی رہےتیرا جانا زندگی کا ایک قصہ ہو گیا