15 اشعار

وقت وصال کی سوچ

Waqt-e-Visaal ki Soch

وقت وصال کی سوچ

«وقت وصال کی سوچ» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 5 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

ذرا سوچو۔۔۔۔!کہ سوچ کی ہوتی آواز

اور اس آواز کے الفاظ بےشماران الفاظوں میں درد ہوتا

اور اس درد میں اک انجانی پکارذرا سوچو۔۔۔۔۔!

اس وقت وصال کی سوچ کواور اس بیچاری سوچ کی آہ و پکار

ان الفاظوں کا تڑپنا اور تڑپنااور پھر سسک کر مرنا بے اختیار

ذرا سوچو۔۔۔۔!آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر کی

ابھرتی لہروں کی چیخ و پکاریار سے بچھڑنا تو محال تھا

مگر کب تھا کسی کے اختیارموت سے کہہ دیں گے کہ اب ناراضگی نہیں قمر

یار سے ملنے کی خاطر اب یہ زندگی بھی نہیں قمرذرا سوچو ۔۔۔۔۔!

ملیں گے جب ہم پھر دوبارہاس دنیا کے اس پار

جہاں غم نہ جدائی کا ہوگااور نہ دردوں کی بھرمار

نا نالے اس دل کے ہونگےنا کوئی تیر جگر کے پار

خمار ہی خمار ہو گا ہر طرحاور ہر چیز بس خوشگوار

روپ تیرا سوہنا ہوگا، اور خوشبوبکھیرتی ہوئی ترے جسم کی مہکار

مجھے اس جہاں میں پانا ہے تجھے قمرتو ہو ہی نہیں سکتا کسی اور کا طلبگار

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں