7 اشعار

عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو

Ain mumkin hai koi aankh bhi bedar na ho

عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو

«عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہوصبح پیڑوں پہ اگر چڑیوں کی چہکار نہ ہو

تیری آمد پہ ہر اک شخص کی خواہش ہو گیمجھ سوا کوئی گلابوں کا خریدار نہ ہو

گردش وقت سے آ دونوں ہی مل کر ڈھونڈیںایسا پل جس میں بچھڑنا ہمیں دشوار نہ ہو

آگہی مرگ ٍمسلسل کے سوا کچھ بھی نہیںجیسا ہے ویسا ہی رہ اتنا سمجھدار نہ ہو

کتنی حسرت سے مکانوں کی طرف دیکھتا ہےاحنبی شخص کا جیسے کہیں گھر بار نہ ہو

اپنی اولاد کو مرتے ہوئے کنگال نہ کرتیری غربت کا تقاضا ہے کہ بیمار نہ ہو

میں نے یہ سوچ کے زخموں کی نمائش کی ہےتاکہ دشمن مرے اشعار سے بیزار نہ ہو

— راکب مختار