راکب مختار کا کلام
- 01 بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں Bhai bichhde to bas hichkiyan reh gayin آواز میں دستیاب
- 02 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu آواز میں دستیاب
- 03 ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی Idhar bhi dekhiye deedawarān-e-tanhai آواز میں دستیاب
- 04 عین ممکن ہے کوئ آنکھ بھی بیدار نہ ہو Ain mumkin hai koi aankh bhi bedar na ho آواز میں دستیاب
- 05 سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی Safar ke naqshe mein chatteel zameen banai gai آواز میں دستیاب
- 06 میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے Main kho gaya tha koi shai talash karte hue آواز میں دستیاب
- 07 یاد آتے ہیں بہت جان سے پیارے ہم کو Yaad aate hain bahut jaan se pyare hum ko آواز میں دستیاب
- 08 حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے Hukm-e-Murshid pe hi ji uthna hai mar jaana hai آواز میں دستیاب
- 09 ہوا نے آکے مجھے مژدہ رہائی دیا Hawa ne aake mujhe muzhda rihai diya آواز میں دستیاب
- 10 عجیب لوگ ہیں پہلے مجھے پکارتے ہیں Ajeeb log hain pehle mujhe pukarte hain آواز میں دستیاب
- 11 اے پیاس پانیوں کو مثالی ملال دے Ay piyās pāniyoñ ko misālī malāl de آواز میں دستیاب
- 12 حضور وقت کے سائے ہیں ڈھلتے رہتے ہیں Huzoor waqt ke saaye haiñ ḍhalte rehte haiñ آواز میں دستیاب
- 13 عبا قبا کے پسِ پردہ اچھے کاموں سے Abā qabā ke pas-e-pardah achhe kāmoñ se آواز میں دستیاب
- 14 تو بھی بیٹھے گا نہیں مسندِ سلطانی پر Tu bhi baiṭhegā nahīñ masnad-e-saltānī par آواز میں دستیاب
- 15 بہت اداس فلک ہے زمیں پریشاں ہے Bahut udās falak hai zamīn pareshān hai آواز میں دستیاب
- 16 جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے Jooñhī ghabrā ke mirī āñkh se āñsū nikle آواز میں دستیاب
- 17 میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے Maiñ kho gayā thā koī shai talāsh karte hue آواز میں دستیاب
- 18 زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتی Zindagi lākh kaṭhan phir bhī basar ho jaatī آواز میں دستیاب
- 19 عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں Ajab nahīñ hai mu'ālij shifā se mar jaayen آواز میں دستیاب
- 20 دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے Dhaṛkan the, du'ā the, mere hone kā yaqeen the آواز میں دستیاب
- 21 چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہے Chashm-e-nam jur'at-e-inkār se ḍar jaata hai آواز میں دستیاب
- 22 پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے Pahāṛ log the, ghaddāriyon pe wāre ga'e آواز میں دستیاب
- 23 چھوڑ جائیں گے یہ گھر سارے اگر لگ جائے Chhod jaayenge yeh ghar saare agar lag jaaye آواز میں دستیاب
- 24 کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے Kin ke khaliq kabhi mahol judagana bane آواز میں دستیاب
- 25 شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے Shikwe na kiya kar pas-e-deewar hamare آواز میں دستیاب
- 26 لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے Lagta hai apne ahd-o-bayan se mukar gayi آواز میں دستیاب
- 27 اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے Apni dhun mein behte hue daryao'on ko zakhmaya hai آواز میں دستیاب
- 28 ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی Hue the bain fiza mein nami bikhar gai thi آواز میں دستیاب
- 29 خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے Khauf-e-khasara mujh ko na kal tha na aaj hai آواز میں دستیاب
- 30 یہ سوچتے ہوئے حیرانیوں نے مار دیا Yeh sochte hue hairaniyon ne maar diya آواز میں دستیاب
- 31 دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں Dekh pagli! Jo farishton ki tarah lagte hain آواز میں دستیاب
- 32 ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے Warna kha jaate masail mujhe khair-o-shar ke آواز میں دستیاب
- 33 یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں Yeh jo hum alam-e-bedari mein khul jaate hain آواز میں دستیاب
- 34 خوں کی ترسیل میں دقت کا سبب بنتی ہو Khoon ki tarseel mein diqqat ka sabab banti ho آواز میں دستیاب
- 35 دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے Dar-ul-shifa samajh ke dar-e-yaar pe gaye آواز میں دستیاب
- 36 دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے Dil mein wo Tees uThe dard pe qaabu na rahe آواز میں دستیاب
- 37 رزق عشق فراہم باہم کیا جائے Rizq-e-ishq faraham baaham kiya jaaye آواز میں دستیاب
- 38 شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے Shaboon ke des mein hum kis bina pe DaT jaate آواز میں دستیاب
- 39 جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے Jawaan bewa ki aahon ke ista'aare the آواز میں دستیاب
- 40 تو مجھ سے دور چلا جائے گا ? خدا نہ کرے Tu mujh se door chala jaaye ga? Khuda na kare آواز میں دستیاب
- 41 یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں Ye saanha bhi hua hai teri Khudai mein آواز میں دستیاب
- 42 بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں BhaTak gaya tha kisi aankh mein qayaam se main آواز میں دستیاب
- 43 چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی Chiraagh bujhne lage aur chhaayi taareeki آواز میں دستیاب
- 44 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر Puhanch gaya wo jab havas ke aakhri muqaam par آواز میں دستیاب
- 45 جہاں پہ پینے پلانے کا اہتمام نہ ہو Jahan pe peene pilaane ka ehtemaam na ho آواز میں دستیاب
- 46 آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا Aankh kya phoRni us ki jo ho bilkul andha آواز میں دستیاب
- 47 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں Khaki paikar hai magar khak nasheenon se nahin آواز میں دستیاب
- 48 گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے Gaon bhi mahakta tha itr'ti hawaon se آواز میں دستیاب
- 49 شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے Shabon ke des mein hum kis bina pe dat jaate آواز میں دستیاب