8 اشعار

بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

Bhai bichhde to bas hichkiyan reh gayin

بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

«بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیںبین کرنے کو ماں جائیاں رہ گئیں

فاتحِ شہر خوش ہے کہ سب مر گئےقصر میں صرف شہزادیاں رہ گئیں

منقسم یوں ہوا ترکہء ِ زندگیمیرے حصے میں بربادیاں رہ گئیں

ہو گیا خطہءِ دل میں سب کچھ فناچند مخصوص آبادیاں رہ گئیں

چھو نہ پائے کلائی کا کنگن بھی ہمگال سے کھیلتی بالیاں رہ گئیں

کتنے زرقون خواہش میں تڑپے مگرخالی خالی تری انگلیاں رہ گئیں

نیند میں اس نے پکڑا گریبان سےآنکھ میں خواب کی دھجیاں رہ گئیں

قاتلوں میں کئی لوگ اپنے بھی تھےمیرے سینے میں کچھ برچھیاں رہ گئیں

— راکب مختار