5 اشعار

آگ سے جو کچھ بھی پانی نے کیا

Aag se jo kuch bhi paani ne kiya

آگ سے جو کچھ بھی پانی نے کیامجھ سے میری زندگانی نے کیا

ہم مکمل ہیں تباہ ایسا ہمیںنامکمل اک کہانی نے کیا

اک صفِ ماتم بچھی دل میں مرےیہ تمہاری مہربانی نے کیا

حال جو کچھ ہے چراغِ آس کایہ ہوا سے چھیڑ خوانی نے کیا

ان گنت غم کے پہاڑوں کے تلےہم کو بوڑھا اس جوانی نے کیا

— رانا احمد شہید