12 اشعار

اگر یہ وقت تھم جائے

Agar yeh waqt tham jaaye

اگر یہ وقت تھم جائےاگر یہ وقت تھم جائے

میں اپنی سانس میں تجھ کوبسا کر عمر بھر رکھ لوں

تری دھڑکن کواپنی دھڑکنوں کے ساتھ میں سن لوں

تیرے پیکر کو اپنے ساتھ رکھ کردیکھتا جاؤں

تری آنکھوں کو اپنے ان لبوں سےچومتا جاؤں

اگر ہو بولنے کا اذنمیں بس بولتا جاؤں

مگر یہ ہونہیں سکتاکبھی خوابوں کے کہنے سے

کوئی لمحہ نہیں رکتاکوئی بھی آرزوؤں کی

کبھی چیخیں نہیں سنتازمانہ درد دے کر بس

اکیلا چھوڑ جاتا ہےکسی کے عمر بھر کے خواب

پل میں توڑ جاتا ہےتو پھر یہ خواب کیوں دیکھیں

چلو اک دوسرے کے بنہی زندہ رہنے کا سوچیں

— رانا احمد شہید