5 اشعار

داغ گر چاند کا دنیا کو نظر آ جاتا

Daagh gar chand ka duniya ko nazar aa jaata

داغ گر چاند کا دنیا کو نظر آ جاتااس کا الزام بھی بس اپنے ہی سر آ جاتا

یوں بھٹکتے ہوئے پھرتے نہ بلا مقصد ہمگر ذرا سا بھی دعاؤں میں اثر آ جاتا

اپنے احباب میں خوش تھا وہ تو شکوہ کیسابات تب تھی وہ اُدھر سے جو ادھر آ جاتا

ہم وہ سورج تھے جو اپنی ہی تپش میں جھلسےبھسم ہو جاتا مقابل وہ اگر آ جاتا

اپنی خوشیوں کا ٹھکانہ کہاں ہوتا احمدصبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جاتا

— رانا احمد شہید