5 اشعار

ہر طرف اضطراب دیکھاہے

Har taraf iztiraab dekha hai

ہر طرف اضطراب دیکھاہے‏اک بھیانک سا خواب دیکھا ہے

‏تاب جس کی نہ لا سکا کوئی‏آج اسکو بے تاب دیکھا ہے

‏کتنے کانٹے تھے اسکے سینے میں‏خوں میں لت پت گلاب دیکھا ہے

‏وہ جو اوروں کو وعظ کرتا ہے‏اس کو محوِ شراب دیکھا ہے

‏پھر سے ہم نے امید باندھی ہے‏پھر سے ہم نے سراب دیکھا ہے

— رانا احمد شہید