15 اشعار

جانے والوں کو لوٹ جانا ہے

Jaane walon ko lauT jaana hai

جانے والوں کو لوٹ جانا ہےکہ یہی گردشِ زمانہ ہے

چل رہی ہے کچھ ایسی ریت یہاںاور اس ریت کو نبھانا ہے

جانے والوں کو لوٹ جانا ہےجا رہے ہو تو بات یہ سن لو

ختم ہوگا نہ ساتھ یہ سن لوغم کی چھائی ہے رات یہ سن لو

یاد رکھنا، سحر کو آنا ہےجانے والوں کو لوٹ جانا ہے

وہ جو اک ساتھ دن گزارے تھےایک دوجے کے ہم سہارے تھے

کس قدر پر کشش نظارے تھےکیسے یادوں کو اب بھلانا ہے

جانے والوں کو لوٹ جانا ہےمرے دل کا کھلا ہے در اب تک

کر رہا ہوں میں اک سفر اب تکتو ہے منزل تو رہگزر اب تک

ہر قدم تجھ طرف اٹھانا ہےجانے والوں کو لوٹ جانا ہے

جس جگہ جاؤں تیری محفل ہےتری یادیں بھلانا مشکل ہے

تو ہے دھڑکن مری مرا دل ہےتجھ کو سینے میں اب سجانا ہے

جانے والوں کو لوٹ جانا ہےکرناچاہتے ہو مجھ سے پیار کرو

مرے وعدے کا اعتبار کرواس طرح سے نہ بیقرار کرو

اور کب تک یوں آزمانا ہےجانے والوں کو لوٹ جانا ہے

— رانا احمد شہید