5 اشعار

میں اس کی سنگدلی سمجھا نہیں تھا

Main us ki sangdili samjha nahin tha

میں اس کی سنگدلی سمجھا نہیں تھاوہ میری بے بسی سمجھا نہیں تھا

وہ میری گفتگو کو کیا سمجھتاجو میری خامشی سمجھا نہیں تھا

میں اس کی روشنی میں جل رہاتھاجو میری تیرگی سمجھا نہیں تھا

میں اس کے شہر بھر سے آشنا تھاوہ میری اک گلی سمجھا نہیں تھا

محبت اس کا بس اک مشغلہ تھییہ میری سادگی، سمجھا نہیں تھا

— رانا احمد شہید