5 اشعار

آرزو بے لباس لگتی ہے

Aarzoo be libaas lagti hai

آرزو بے لباس لگتی ہےشام پھر سے اداس لگتی ہے

میرے پہلو میں آن بیٹھی ہےتیرگی غم شناس لگتی ہے

میرے گھر کے صحن میں آتے ہیںجب پرندوں کو پیاس لگتی ہے

خواہشِ وصل ایک حق تھا کبھیآج اک التماس لگتی ہے

زندگی اک کتاب تھی یارواب فقط اقتباس لگتی ہے

— رانا احمد شہید