5 اشعار

مجھے لگنے لگا ہے زندگی کا یہ سفر دھوکہ

Mujhe lagne laga hai zindagi ka yeh safar dhoka

مجھے لگنے لگا ہے زندگی کا یہ سفر دھوکہجدھر بھی دیکھتا ہوں ، دیکھتا ہوں میں اُدھر دھوکہ

سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ کر لیا ہے تومجھے پہلے بتا دو مجھ کو دو گے تُم کِدھر دھوکہ

محبّت میں ہمیشہ ہر قدم پر جاگتے رہناکہیں پر کھا نہ جانا تُم بھی اِس سے بے خبر دھوکہ

تمھارے نام سے منسوُب جب سے زندگی کر دیمجھے ہر شخص دیتا ہے تمھارے نام پر دھوکہ

کسی جھوٹی تسّلّی سے کبھی نہ دل کو بہلاناکہ اِس میں بھی تو ہوتا ہے سراسر با اثر دھوکہ

— رانا احمد شہید