11 اشعار

آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا

Aafat shab-e-tanhayi ki tal jaye to achha

آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا

«آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

آفت شب تنہائی کی ٹل جائے تو اچھاگھبرا کے جو دم آج نکل جائے تو اچھا

او جان حزیں جانا ہے اک دن تجھے آخراب جائے تو بہتر ہے کہ کل جائے تو اچھا

جھکوا دیا سر ضعف نے قاتل کے قدم پرتلوار اگر اس کی اگل جائے تو اچھا

بہتر نہیں ہے صورت جاناں کا تصوردل اور کسی شے سے بہل جائے تو اچھا

اک سل ہے کلیجے پہ نہیں روح بدن میںچھاتی کا پہاڑ آہ پہ ٹل جائے تو اچھا

دیوانہ عبث شہر کی گلیوں میں ہے بربادمجنوں کسی جنگل کو نکل جائے تو اچھا

او آتش دل پھونک دے تن اشک بہا دےبہہ جائے تو بہتر ہے یہ جل جائے تو اچھا

ہر مرتبہ ڈسنے کے ارادہ میں ہے وہ زلفاژدر یہ اگر مجھ کو نگل جائے تو اچھا

پھر رکنا ہے دشوار یہ جب آئی تو آئیایسے میں طبیعت جو سنبھل جائے تو اچھا

تابوت مرا تھم کے اٹھاؤ مرے یارووہ بھی کف افسوس جو مل جائے تو اچھا

اے رندؔ ملو یار سے یا ہاتھ اٹھاؤجھگڑا چکے ہر شب کا خلل جائے تو اچھا

— رند لکھنوی