21 اشعار

زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے

Zamane mein woh mah-laqa ek hai

زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے

«زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہےہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہے

خداوند ارض و سما ایک ہےقسم ہے خدا کی خدا ایک ہے

برابر ہے اپنا وجود و عدمہماری بقا اور فنا ایک ہے

عدم ابتدا ہے عدم انتہامری ابتدا انتہا ایک ہے

نہ ہوں گے یہ حادث رہے گا قدیمغرض سب ہیں فانی بقا ایک ہے

ذرا غور سے مرأت دل کو دیکھیہ آئینۂ حق نما ایک ہے

جنہیں کفر و الحاد کہتا ہے شیخفقط پھیر ہے راستا ایک ہے

جہاں میں ہیں غافل بہت سے طریقمگر راہ صدق و صفا ایک ہے

مآل سخن ذکر ہے یار کاکہوں سو طرح مدعا ایک ہے

محل فقر کا ہے عجائب مقامیہاں مسند و بوریا ایک ہے

کہاں اس کے آگے کسی کا فروغوہ خورشید رو مہ لقا ایک ہے

فضیلت ملی ایک کو ایک پرغرض ایک سے یاں سوا ایک ہے

بچے گا نہ کاوش سے مژگاں کے دلکہ نشتر بہت آبلہ ایک ہے

جفاکار دم باز کاذب محیلمیں واقف ہوں وہ بے وفا ایک ہے

ہے انبوہ عشاق عیسیٰ کے گھرمریض اتنے دار الشفا ایک ہے

نہیں بچتا دونوں کا مارا ہواتری زلف اور اژدہا ایک ہے

نہ آنا تو اس زلف کے پیچ میںارے دل وہ کالی بلا ایک ہے

ہزاروں شہید محبت ہیں دفنگلی اس کی اور کربلا ایک ہے

ہر اک درد کا ہے مداوا وہ لبمرض سیکڑوں ہیں دوا ایک ہے

دوئی کو نہ دے دل میں غافل جگہزباں ایک ہے اور خدا ایک ہے

کہو گے جو کچھ تو سنو گے بھی رندؔہنسی میں تو شاہ و گدا ایک ہے

— رند لکھنوی