18 اشعار

خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے

Khamosh daab-e-ishq ko bulbul liye hue

خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے

«خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

خاموش داب عشق کو بلبل لیے ہوئےگل مست ہے چمن میں پیالہ پیے ہوئے

امسال فصل گل میں وہ پھر چاک ہو گئےاگلے برس کے تھے جو گریباں سیے ہوئے

ہم بھی ہوا میں اک گل نوخیز حسن کےبرسوں پھرے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے

دوکانیں مے فروشوں کی کب سے پڑی ہیں بندرہ رہ گئے ہیں قفل دیے کے دیے ہوئے

عشق صنم ہے اس میں ہیں خودداریاں ضروراے دل خدا کے واسطے خود کو لیے ہوئے

مرشد ہے عشق ہم ہیں مرید اس جناب کےبرسوں گزر گئے ہیں پیالہ پیے ہوئے

وہ آ کے مسکرائے اس انداز و ناز سےکھل کھل گئے جو زخم جگر تھے سیے ہوئے

روز ازل سے دخل وجود و عدم میں ہےدونوں علاقے ہیں یہ ہمارے لیے ہوئے

ہیں بت پرست دیر میں حاجی ہیں کعبہ میںطالب رضائے دوست کے دھرنے دیے ہوئے

میدان امتحاں میں ہمیں بھیج دیجیےکہیے انہیں یہ کام ہیں جن کے کیے ہوئے

نامرد اپنے وادی میں رکھے گا کیا قدمسر ہو مہم عشق نہ بے سر دیے ہوئے

کس کس طرح کا بھیس بدل کر پہنچتے ہیںعاشق ہوئے نہ آپ کے بہروپئے ہوئے

حاصل ہوا بتوں سے نہ عاشق کو مدعاروشن کبھی نہ دیر میں گھی کے دیے ہوئے

تعویذ و نقش کچھ نہیں کرتے اثر وہاںسارے یہ کھٹکھٹے ہیں ہمارے کئے ہوئے

اک شب ہوئی نصیب سلیماں نہ جو پریہم روز سوئے اس کو بغل میں لیے ہوئے

آنکھوں میں پھرتی ہیں جو وہ آنکھیں نشیلیاںدو بوتلوں کی مستی ہے بے مے پیے ہوئے

باندھا جو چست چست مضامین نو کے ساتھبندش سے میری تنگ بہت قافیے ہوئے

عاشق مزاج روتے ہیں پڑھ پڑھ کے بیشتراشعار رندؔ کے نہ ہوئے مرثیے ہوئے

— رند لکھنوی