17 اشعار

آج انکار نہ فرمائیے آپ

Aaj inkaar na farmaaiye aap

آج انکار نہ فرمائیے آپ

«آج انکار نہ فرمائیے آپ» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

آج انکار نہ فرمائیے آپشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپ

جائیے گھر کو نہ گھبرائیے آپہم نہ مر جائیں گے بس جائیے آپ

کھول دو شوق سے بند انگیا کےلیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ

آتے ہی کہتے ہو میں جاؤں گامیں بھی آنے کا نہیں جائیے آپ

ڈھونڈھتے پھریے اگر لے کے چراغمجھ سا عاشق جو کہیں پائیے آپ

عمر بھر تو نہ قدم رنجہ کیاآئیے اب تو نہ ترسائیے آپ

جان مشتاق لبوں پر آئیکچھ وصیت ہے وہ سن جائیے آپ

دل سمجھتا نہیں مجھ سے ناصحآپ سے سمجھے تو سمجھایئے آپ

سایہ ساں شوق میں افتاں خیزاںساتھ رہتا ہوں جدھر جائیے آپ

میں دکھاؤں جو جنوں کی ہے صفتشان بے رحمی کی دکھلائیے آپ

ٹکڑے ٹکڑے میں گریباں کے کروںپرزے پرزے مرے آڑائیے آپ

شاد ہو روح اگر بعد فناشمع و گل گور پہ بھجوائیے آپ

جان صدقے کروں کیا مال ہے جانکاٹ دوں سر کو جو فرمائیے آپ

منہ پہ منہ رکھا تو بولے کیا خوبپہلے منہ اپنا تو بنوایئے آپ

غیر کٹنے لگیں بندھ جائے ہوامجھ سے تکل اگر اڑوائیے آپ

نام تک لوں نہ کبھی ہوں وہ بشراب اگر حور بھی بن جائیے آپ

ہاتھ سے رندؔ کو کھوتے ہو عبثکہیں ایسا نہ ہو پچھتائیے آپ

— رند لکھنوی