30 اشعار

چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو

Chhup ke ghar ghair ke jaaya na karo

چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو

«چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کرو» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کروربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرو

اے بتو بال بنایا نہ کروسانپ ہاتھوں پہ کھلایا نہ کرو

سبزۂ خط کو دکھایا نہ کروطوطے ہاتھوں کے اڑایا نہ کرو

رند غم ہجر کا کھایا نہ کروجان کو اپنی کھپایا نہ کرو

تذکرہ غیر کا لایا نہ کروجلے کو اور جلایا نہ کرو

منہ کو غنچے کے چڑایا نہ کروگل کو کھلی میں اڑایا نہ کرو

مدعا جو ہو زباں سے کہو صافحرف مطلب کو چبایا نہ کرو

اپنا سمجھو مرا دل شوق سے لومیری جاں اپنا پرایا نہ کرو

مجھ کو بھی یاد ہیں فقرے صاحبجوڑ بندے پہ بنایا نہ کرو

خود میں دم باز ہوں ہے دھیان کدھرمجھ کو فقروں میں اڑایا نہ کرو

ہوش میں آؤ پری زادو تممجھ کو دیوانہ بنایا نہ کرو

ہم لہو تھوک کے مر جائیں گےلالی ہونٹوں پہ جمایا نہ کرو

لوگ سودائی ہوئے جاتے ہیںدھڑی مسی کی لگایا نہ کرو

ہو نہ انگشت نما مثل ہلالجان نوچندی میں جایا نہ کرو

اے بتو اپنے خدا کو مانوکعبۂ دل کو تو ڈھایا نہ کرو

میں تو حاضر ہوں وفاداری میںتم کرو مجھ سے وفا یا نہ کرو

دھوکے دریا میں بھبوکا سے ہاتھآگ پانی میں لگایا نہ کرو

مجھ سے خلوت کی ملاقات رہےروز جلوت میں بلایا نہ کرو

واسطے بندے کے بد نامی ہےجان صحبت میں بٹھایا نہ کرو

دیکھنے والوں کی جانب دیکھواس طرح آنکھ چرایا نہ کرو

شرم بے جا ہے برا کرتے ہواچھی صورت کو چھپایا نہ کرو

جاؤ دریا پہ نہ تم غیر کے ساتھایسے مینڈھے تو لڑایا نہ کرو

دانت پیسا نہ کرو عاشق پرجان یوں ہونٹھ چبایا نہ کرو

چار دن وصل میں ہنس لینے دوآٹھ آٹھ آنسو رلایا نہ کرو

لوگ بد وضع کہیں گے تم کومیلے ٹھیلے کبھی جایا نہ کرو

جان کس کام کا یہ بھولا پندم میں ہر ایک کے آیا نہ کرو

عاشقوں کی بری گت ہوتی ہےتم ستاری تو بجایا نہ کرو

حضرت دل یہی فرماتے ہیںعشق معشوق چھپایا نہ کرو

خوش نہیں آتا اگر میرا کلامتو غزل بھی مری گایا نہ کرو

تھامو اب قبضۂ شمشیر اے رندؔکوفت پر کوفت اٹھایا نہ کرو

— رند لکھنوی