14 اشعار

چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے

Cahdhi tere bemar-e-furqat ko tab hai

چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے

«چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہےبشدت قلق ہے نہایت تعب ہے

مریض محبت ترا جاں بلب ہےتجاہل ستم ہے تغافل غضب ہے

وہ آفت ہے آفت ہے آفت ہے آفتغضب ہے غضب ہے غضب ہے غضب ہے

گلی یار کی ہے قدم رکھوں کیوں کرچلوں سر کے بل یاں مقام ادب ہے

جو ابرو دکھایا تو عارض بھی دکھلاوہ قرآن ہے یہ ہلال رجب ہے

ہوئی صبح پیری کٹی اب جوانییہ جلنا فقط شمع ساں شب کی شب ہے

وہ زلف سیہ ہے کہ مشک ختن ہےنہیں خط سواد دیار حلب ہے

کھلا کچھ نہ مجھ پر نہ آنے کا منشاجہت کچھ تو فرمائیے کیا سبب ہے

جو شجرہ تھا مجنوں کا شجرہ ہے میراجو تھا قیس کا سلسلہ وہ نسب ہے

غنیمت سمجھ وقت فرصت کو غافلنہ ہاتھ آئے گا پھر یہ موقع جو اب ہے

خدا کی خدائی کا جلوہ ہے او بتیہ حسن جوانی نہیں شان رب ہے

کروں کیوں نہ سامان عشرت مہیاشب وصل دلبر عروسی کی شب ہے

جسے لوگ کہتے ہیں شاہ خراساںوہ بے شبہ ابن امیر عرب ہے

غلام اس کا ہوں جو ہے کوثر کا ساقیجبھی رندؔ مے خوار میرا لقب ہے

— رند لکھنوی