26 اشعار

وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے

Waqar-e-Shah Zawi-ul-Iqtidar dekh chuke

وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے

«وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

وقار شاہ ذوی الاقتدار دیکھ چکےظہور قدرت پروردگار دیکھ چکے

نقاب کھول کے روئے نگار دیکھ چکےکچھ ایک بار نہیں لاکھ بار دیکھ چکے

جہاں کے عیش و غم روزگار دیکھ چکےجو دیکھتا تھا سو پروردگار دیکھ چکے

وہ جیتے جی ہوئے ایذا سے نزع کی آگاہجو صدمے تیرے شب انتظار دیکھ چکے

خدا کے واسطے اب چھوڑ جسم خاکی کواذیتیں بہت او جان زار دیکھ چکے

جنوں نے خوب دکھائی بہار جیب و کنارہوا میں اڑتے ہوئے تار تار دیکھ چکے

وہ قول غیر کو دیتے ہیں لیتے ہیں اقرارتری طرف کو دل بے قرار دیکھ چکے

یقیں ہے اب نہ کریں میرے قتل میں تاخیرفساں چٹا کے وہ خنجر کی دھار دیکھ چکے

نہ ڈال پیچ میں خاطر نہ اب پریشاں کربہت سے درد سر او زلف یار دیکھ چکے

کرے وہ زینت فتراک یا حلال کرےکہیں ادھر کو بھی وہ شہسوار دیکھ چکے

نہ پہونچا ایک بھی ذرہ تمہارے دامن تکاڑا کے خاک بھی ہم خاکسار دیکھ چکے

ہوئے سفید و سیاہ جہان سے واقفبہت سی گردش لیل و نہار دیکھ چکے

کئے ہیں خوب سے نظارے باغ ہستی کےجہاں کو بس مرے پروردگار دیکھ چکے

الٰہی تو نے شرف جس کو آسماں پہ دیاوہ سر زمین بھی یہ خاکسار دیکھ چکے

نہیں ہے ایک میں ہمت یہ وہ زمانہ ہےغریب دیکھ چکے مال دار دیکھ چکے

تہی ہے نشۂ الفت سے یہ خم گردوںشرابیں پی کے ترے بادہ خوار دیکھ چکے

کلاہ کج کو ہٹا کر دکھا دیا ابروقسم علی کی کھنچی ذو الفقار دیکھ چکے

بھلا وہ خاک کریں قصد بزم ہستی کاجو لوگ راحت کنج مزار دیکھ چکے

ہوا یقین فرشتوں کو خاکساری کاکفن لکھا جو یہ خط غبار دیکھ چکے

عمامے باز جو یہ کنٹھے گھٹے والے ہیںجہاں میں جیسے ہیں ذی اعتبار دیکھ چکے

اٹھائی گیرے ہیں سب جعل ساز ہیں مفسدکچھ ایک دو نہیں ہم تو ہزار دیکھ چکے

سوائے ذات خدا سب کے واسطے ہے فناثبات ہستئ نا پائیدار دیکھ چکے

قصور بخت ہے پھر جائیں اب اگر محرومدر کریم تو امیدوار دیکھ چکے

ہزار شکر کہ باقی نہیں کوئی حسرتبہار تیری بھی او گلعذار دیکھ چکے

نجف کو لے گئے میت فرشتہ نقالعزیز کھول کے میرا مزار دیکھ چکے

فقیر بھی مترصد نگاہ لطف کا ہےادھر بھی رندؔ مرا شہریار دیکھ چکے

— رند لکھنوی