15 اشعار

حیران سی ہے بھچک رہی ہے

Hairaan si hai bhachak rahi hai

حیران سی ہے بھچک رہی ہے

«حیران سی ہے بھچک رہی ہے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

حیران سی ہے بھچک رہی ہےنرگس کس گل کو تک رہی ہے

آئی ہے بہار غنچے چٹکےکیا پھولوں کی بو مہک رہی ہے

مے خانے پہ مینہ برس رہا ہےبجلی کیسی چمک رہی ہے

باقی ہے اثر ابھی جنوں کاسودا تو گیا ہے جھک رہی ہے

پوچھو نہ جلن کا دل کے احوالاک آگ پڑی دہک رہی ہے

نرگس کو تو آنکھ اٹھا کے دیکھوکس یاس سے تم کو تک رہی ہے

لیلیٰ مجنوں کا رٹتی ہے نامدیوانی ہوئی ہے بک رہی ہے

پیغام بہار آن پہونچابلبل کیا کیا چہک رہی ہے

مژگاں کا جو دل میں ہے تصوراک پھانس پڑی کھٹک رہی ہے

ہو جائے گا رام رفتہ رفتہوحشت تو مٹی جھجک رہی ہے

باقی جو یہ جان ناتواں ہےکیا زندوں میں ہے سسک رہی ہے

آنے کی ترے ہی منتظر ہےاو موت کہاں تو تھک رہی ہے

کیا شوخ ہے وہ سنہری رنگتکندن کی طرح دمک رہی ہے

روئے رنگیں عرق فشاں ہےشبنم گل سے ٹپک رہی ہے

ہم رندؔ ہیں بزم اپنی کس راتبے جام مے و گزک رہی ہے

— رند لکھنوی