34 اشعار

جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے

Jalan dil ki likhein jo hum dil jale

جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے

«جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جلن دل کی لکھیں جو ہم دل جلےزبان قلم میں پڑیں آبلے

رہ صعب الفت میں گھبرا نہ دلبہت ایسے پیش آئیں گے مرحلے

نہ دن وہ تمہارے نہ اپنا وہ سنتمہارے ہمارے وہ دن سن ڈھلے

عدم کی بھی کیا راہ ہے بے نظیرچلے جاتے ہیں پیش و پس قافلے

وہ اب نیمچا کر چکے ہیں الماجل آ چکی سر پہ کیوں کر ٹلے

ٹھہر جا کوئی دم کے مہمان ہیںخبر لے ہماری چلے ہم چلے

لکیریں بھی مٹ مٹ گئیں ہاتھ کیزبس ہم نے دست تأسف ملے

رہے دل کے ارمان سب دل میں حیفنکلنے نہ پاے مرے حوصلے

بڑا ہو بڑھاپے کا سب کھو دیانہ میری جوانی نہ وہ ولولے

گڑا کوئی لے کر دل مضطربمزاروں میں آنے لگے زلزلے

سیہ کاریوں میں کٹی عمر سبقلم کی طرح سر کے بل گو چلے

محبت بتوں کی یہ دل چھوڑ دےکسی طرح چھاتی سے پتھر ٹلے

شکایت کا موقع نہ تھا وصل میںکہ تھی راہ تھوڑی بہت تھے گلے

کوئی دم میں ہے نقش ہستی فناکدھر دھیان ہے تیرا او باؤلے

کنار لحد میں پڑے ہیں وہ آججو آغوش مادر میں تھے کل پلے

گلا تیغ قاتل سے رگڑا کیانہ جھچکا ذرا واہ رے منچلے

نہ لایا کوئی شمع و گل گور پرلحد میں بھی داغ محبت جلے

چلے باغ ہستی سے ہم نامرادکسی رت میں اے گل نہ پھولے پھلے

ازل سے ہیں عشاق مذبوح حسنجو مانند ماہی کٹے ہیں گلے

جو فریادی تیرے بھی آ نکلے واںزمیں ہوگی محشر کی اوپر تلے

جو ابرو کے ہوں گے اشارے یوں ہیمری جان لاکھوں کٹیں گے گلے

کئے جائے کاوش پلک یار کیابھی دل کے پھوٹے نہیں آبلے

سرا میں نہ غافل ہو باندھو کمرچلو ساتھ والو چلو ہم چلے

رہے میرا جسم مثالی سہیبلا سے یہ پتلا سڑے یا گلے

یہ سب سر زمیں فتنہ انگیز ہےہزاروں ہی اٹھتے ہیں یاں غلغلے

نظر بھر کے پھر دیکھ لوں شکل یارجو آئی ہوئی میری دم بھر ٹلے

ہمیشہ رہا داغ داغ اپنا جسمسدا مثل سرو چراغاں جلے

فلک کو ملانا تھا گر خاک میںتو پھر ناز و نعمت سے کیوں ہم پلے

رہے بار ور شاخ نخل مرادالٰہی ہمیشہ تو پھولے پھلے

زمانے پہ افسردگی چھا گئینہ ہیں اب وہ چرچے نہ وہ مشغلے

مسافر ہوں دلواؤں گا نذر خضرجو طے ہوں گے رستے کے سب مرحلے

لہو شب سے آتا ہے اشکوں کے ساتھکلیجے کے ناسور شاید چھلے

بسر ہو گئی اس تمنا میں عمرکوئی دوست یک رنگ مجھ کو ملے

یہ کیا روگ اب ہو گیا رندؔ کوکئی سال ادھر تک تھے چنگے بھلے

— رند لکھنوی