12 اشعار

دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے

Dil-lagi ghairon se be-ja hai meri jaan chhod de

دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے

«دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

دل لگی غیروں سے بے جا ہے مری جاں چھوڑ دےمان کہنا تیرے صدقے تیرے قرباں چھوڑ دے

عاشق جاں باز کیوں کر کوئے جاناں چھوڑ دےاپنا آ گھر کس طرح شیر نیستاں چھوڑ دے

یہ نہیں کہتا کہ صیاد اب مجھے آزاد کردو گھڑی کو بہر گلگشت گلستاں چھوڑ دے

کون کافر پھر کرے سجدہ خدا کے سامنےکہہ تو بیٹھے مجھ سے وہ بت اپنا ایماں چھوڑ دے

تنگ ہوں دق ہوں کوئی دم میں نکل جائے گا دمچھوڑ دے دست جنوں میرا گریباں چھوڑ دے

غیر ممکن ہے جو بھولوں گھر ترا اے رشک حورمجھ کو جنت میں اگر لے جا کے رضواں چھوڑ دے

غمزۂ بے جا نہیں اٹھتے پھنکا جاتا ہے دلگرمیاں اپنی تو اے مہر درخشاں چھوڑ دے

پھر پھنسوں میں دام گیسو میں تو کافر جانیوچھوڑ دے للہ اب او نا مسلماں چھوڑ دے

ہو نہ راز عشق افشا آبرو ریزی نہ ہوپھوٹ بہنا تو اگر اے چشم گریاں چھوڑ دے

طوق پھینکیں گے گلے میں مثل قمری سیکڑوںنازکی رفتار و سرو خراماں چھوڑ دے

حسن کا جویا ہوں مدت سے میں دیوانہ مزاجمجھ کو پریوں کے اکھاڑے میں سلیماں چھوڑ دے

یوں بھلائی دل سے یاد مصحف رخسار رندؔحفظ کر کے جس طرح سے کوئی قرآں چھوڑ دے

— رند لکھنوی