11 اشعار

یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ

Yaar aaya hai ahwal-e-dil-e-zaar dikhao

یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ

«یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤ» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

یار آیا ہے احوال دل زار دکھاؤعیسیٰ کو ذرا حالت بیمار دکھاؤ

آ جاؤ بس اب راہ نہ اے یار دکھاؤمشتاق ہوں مشتاق ہوں دیدار دکھاؤ

عالم ہے سو ہے ہجر میں یاں جوش جنوں کاصحرا مجھے دکھلاؤ کہ گل زار دکھاؤ

فرداے قیامت کا نہ اقرار کرو جاںلو حشر سہی آج ہی دیدار دکھاؤ

عاشق ہیں بہت ایک تو چن کر کوئی مجھ ساپشتے کی طرح پشت بہ دیوار دکھاؤ

عالم نظر آ جائے بہار اور خزاں کاہم زرد ہوں تم پھول سے رخسار دکھاؤ

تلوار لگاؤ مجھے گولی سے نہ ماروتل ڈھانک لو اور ابروئے خم دار دکھاؤ

ہر دم متقاضی ہے یہی حسرت دیدارپھر ایک نظر جلوۂ دل دار دکھاؤ

فرماتے ہو عاشق ہیں مرے تجھ سے ہزاروںاے جان زیادہ نہیں دو چار دکھاؤ

عشق ابرو و مژگاں کا بتو ساتھ ہے دم کےخنجر مجھے دکھلاؤ کہ تلوار دکھاؤ

میں قبر سے بھی رندؔ یہی کہتا اٹھوں گامشتاق ہوں مشتاق ہوں دیدار دکھاؤ

— رند لکھنوی