18 اشعار

نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری

Na angiya na kurti hai jaani tumhari

نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری

«نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہارینہیں پاس کوئی نشانی تمہاری

ہوئی رندؔ تو زندگانی تمہارییہی ہے اگر ناتوانی تمہاری

زیادہ ہوئی یاد جانی تمہاریغرض قہر ہے مہربانی تمہاری

نہ بھولوں گا ہرگز نہ بھولا ہوں اب تکعنایت کرم مہربانی تمہاری

شبیہ آپ کی کھینچ دے گا یہ ماناادا کس طرح کھینچے مانی تمہاری

تباہ و خراب اک جہاں کو کیا ہےخدا کا غضب ہے جوانی تمہاری

وہی کہہ رہا ہوں جو فرماتے ہو تممری گفتگو ہے زبانی تمہاری

برابر سمجھتے ہو غیروں کے مجھ کورہے مہرباں قدردانی تمہاری

دل و دیدہ لپکا ہے پھنسنے کا تم کوکہاں تک کروں پاسبانی تمہاری

بس اب شکل دکھلاؤ بے جا ہے غمزہبہت سن چکے لن ترانی تمہاری

عدم کو چلا لے کے داغ محبتدکھاؤں گا سب کو نشانی تمہاری

کیا امتحاں میرا سو معرکوں میںوہی ہے مگر بد گمانی تمہاری

جگا کر دل زار نے ہجر کی شبسحر تک کہی ہے کہانی تمہاری

برا گر نہ مانو تو سچ سچ میں کہہ دوںتم اچھے بری بد زبانی تمہاری

کرم کیجیے آئیے حضرت عشقہے خون جگر میہمانی تمہاری

عبث بے سبب بے جہت روٹھتے ہویہی تو بری خو ہے جانی تمہاری

بھلا تم ہی منصف ہو للہ بولووہ کیا بات تھی جو نہ مانی تمہاری

وہ پیری میں بھی رندؔ دیکھے اب آ کرجسے یاد ہووے جوانی تمہاری

— رند لکھنوی