18 اشعار

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں

Gale lagaayen balaayen lein tum ko pyar karein

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں

«گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریںجو بات مانو تو منت ہزار بار کریں

یہ ہاتھ کیسے ہیں بیکار کچھ تو کار کریںبہار آئی گریبان تار تار کریں

کہاں سے لائیں اب اس کو جو ہمکنار کریںتسلی کیا تری او جان بے قرار کریں

وہ ربط تم سے بڑھائیں وہ تم کو یار کریںہزار طرح کے جو جبر اختیار کریں

گرائے سیل عناصر کی چار دیواریخراب خانۂ تن چشم اشکبار کریں

تمہارے در سے نہ مایوس جائیں حاجت مندقبول ہووے جو توبہ گناہ گار کریں

کفن بھی ہو گیا میلا دھرے دھرے اے موتتمام عمر ہوئی کب تک انتظار کریں

برنگ غنچہ زباں ہے دہاں میں زیر زباںتمہارے قول کا کیا خاک اعتبار کریں

گدا ترے در دولت کے ہیں یہ مستغنیجو سلطنت بھی ملے تو نہ اختیار کریں

غرور حسن سے ہرگز سنے گا ایک نہ گلچمن میں نالے اگر بلبلیں ہزار کریں

سنائے رکھتا ہوں سب کو مری وصیت ہےکہ تا اسی پہ عمل میرے غم گسار کریں

چراغ زیست جب اس ننگ دودماں کا ہو گلعزیز شمع نہ روشن سر مزار کریں

ترے سوا ہے کریم اور رحیم کس کی ذاتنجات کس سے طلب ہم گناہ گار کریں

بجائے سرمہ لگائیں غبار کوچۂ یاریہی علاج ترا چشم اشکبار کریں

ستم شعار جفا پیشہ بے مروت ہےسراہیے جگر ان کے جو تجھ کو پیار کریں

بڑھا کے لکھیں نہ شاعر حدیث زلف رساہوا ہے طول مناسب ہے اختصار کریں

در کریم سے آتی ہے متصل یہ صداوہ کیوں نہ پائے جسے ہم امیدوار کریں

یہ بت اٹھائیں جو قرآں بھی کعبے میں اے رندؔخدا سے ہم تو ہوں منکر جو اعتبار کریں

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں