17 اشعار

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

Munh na dhaanko ab to soorat dekh li

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

«منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لیدیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لی

شکل بدلی اور صورت ہو گئیاک نظر جس نے وہ صورت دیکھ لی

ایک بت سجدہ نہیں کرتا تجھےبس خدایا تیری قدرت دیکھ لی

ہے عیاں حال سگ اصحاب کہفجانور کی آدمیت دیکھ لی

چار دن بھی تو نہ تم سے نبھ سکیآپ کی صاحب سلامت دیکھ لی

جانتے تھے ہم نہ ایذا ہجر کیوہ بھی صاحب کی بدولت دیکھ لی

گھورتے ہیں اب نگاہ قہر سےچار دن چشم عنایت دیکھ لی

کیوں اجل اب زہر پسواتا ہوں میںراہ تیری ایک مدت دیکھ لی

کھل گئی بندے پہ قدر و منزلتتھی جو صاحب کی حقیقت دیکھ لی

جا کے گھر جھوٹوں نہ پوچھی بات تکبس تری جھوٹی محبت دیکھ لی

اس سے کہہ عادت سے جو واقف نہ ہودیکھ لی خو تیری خصلت دیکھ لی

بحر ہستی میں فقط مثل حبابہے مجھے اک دم کی مہلت دیکھ لی

آپ حیراں ہوگا اپنے حسن کاآئینے میں گر وہ صورت دیکھ لی

چاندنی راتوں میں چلاتا پھراچاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی

پھر وہی ہے بوریا اور اپنا فقرچار دن کی جاہ و حشمت دیکھ لی

کیوں چراتا ہے وہ کافر مجھ سے آنکھکیا نگاہ چشم حسرت دیکھ لی

یاد آیا رندؔ وہ پیماں شکنگر کہیں باہم محبت دیکھ لی

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں