17 اشعار

زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا

Zulfain chhodi hain ke joda us ne chhoda saanp ka

زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا

«زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کادیکھیے کس کس کو ڈستا ہے یہ جوڑا سانپ کا

گورے گالوں پر ترے زلفیں یہ لہراتی نہیںیاسمیں زار صباحت میں ہے جوڑا سانپ کا

عشق ان زلفوں کا مجھ سے ترک ہونے کا نہیںہے مرا ہم زاد اے ناصح یہ جوڑا سانپ کا

دونوں زلفیں یار کی الٹی ہیں بالوں پر مرےوجد کرتا ہے صدائے نے یہ جوڑا سانپ کا

منڈ گئیں زلفیں ہیں شاعر کس سے اب دیں گے مثالہو گیا تشبیہ کی خاطر بھی توڑا سانپ کا

عمر بھر دل کو خیال گیسوئے پیچاں رہادھیان اس نادان نے ہرگز نہ چھوڑا سانپ کا

نقرئی موباف چوٹی میں رہا ان کی سداکینچلی نے عمر بھر پیچھا نہ چھوڑا سانپ کا

پڑ گئی ایذا دہندی کی تری زلفوں کو خوکاٹتا ہے اڑ کے عاشق کو یہ جوڑا سانپ کا

کچھ سمجھ کر رہا ہوں یار کی زلفوں کی داشتپالتا ہوں اپنے کٹوانے کو جوڑا سانپ کا

شام سے ان گیسوؤں کی یاد میں جو سو رہاخواب میں دیکھا کیا تا صبح جوڑا سانپ کا

عشق میں گیسو و ابرو کے اگر دینی ہے جاننیش عقرب کھا کے پی لے زہر تھوڑا سانپ کا

واسطے موذی کے آخر میں بھی موذی بن گیاسر کسی حالت میں بے کچلے نہ چھوڑا سانپ کا

عشق گیسو میں نہ قطرہ بھی تلف ہونے دیازہر سارا حلق میں میں نے نچوڑا سانپ کا

خط پہ آتے ہیں بہت لہرا کے گیسو یار کےسبزہ نوخیز پر غش ہے یہ جوڑا سانپ کا

حلقۂ گیسوئے شب کو ذرۂ افشاں چنیرات کو چن چن کے اک اک دانت توڑا سانپ کا

ہر قدم پر مار کر سر کر رہا ہے ناگ پیچاب چلن سیکھا ہے اس موذی نے تھوڑا سانپ کا

دشمن جانی کو اپنے دی نہ ایذا رندؔ نےدانت ہی توڑا نہ چھالا اس نے پھوڑا سانپ کا

— رند لکھنوی