24 اشعار

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا

Ik pari ka phir mujhe shaida kiya

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا

«اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیاعشق نے پھر مفسدہ برپا کیا

آج پھر اس شوخ نے فقرا کیاوعدۂ امروز بھی فردا کیا

خون ناحق اک مسلماں کا کیاکیا غضب او شوخ بے پروا کیا

دل کو مائل شعلہ رویوں کا کیادین زردشتی کو پھر احیا کیا

ابر اکثر اس برس برسا کیاکیا تتبع دیدۂ تر کا کیا

کیوں اجل کیا تجھ کو بھی موت آ گئیاس قدر آنے میں کیوں عرصہ کیا

کان کی بجلی جو یاد آئی تریبرق کے مانند میں تڑپا کیا

وہ کف پائے حنائی کر کے یادہجر کی شب ایڑیاں رگڑا کیا

اس کو بھی سکتہ ہوا دیکھ آئینہدیر تک حیرت سے منہ دیکھا کیا

خاک چھانی مدتوں تنکے چنےکیا کہوں اس عشق میں کیا کیا کیا

کل نہ پاؤ گے ہمیں کہیو سفیرآج آنے میں اگر حیلہ کیا

واں ہوئے مسی سے لب ان کے کبودپیٹ کر منہ ہم نے یاں نیلا کیا

تب اٹھے ہیں ان بتوں کے ہم سے نازجب کلیجا اپنا پتھر کا کیا

ہے گرہ موئے کمر کی ناف یارفکر نے اپنے یہ عقدہ وا کیا

لاگ پیدا کر کے اب جلاد سےجان کھوئی ہائے دل نے کیا کیا

ڈنٹر پہ باندھا ہم نے جوشن کی طرححرز جاں قاتل ترا چھلا کیا

مجھ کو مجنوں کر دیا مانند قیسسحر کچھ اور غیرت لیلیٰ کیا

معرکہ میں عشق کے سرکا نہ پاؤںآبرو کو جان کو صدقہ کیا

سوز فرقت نے شرارت مجھ سے کیہیزم تر کی طرح سلگا کیا

اے شب فرقت نہ کر مجھ پر عذابمیں نے تیرا منہ نہیں کالا کیا

زلف جاناں جس نے دیکھی ایک باردل سے اپنے عمر بھر الجھا کیا

اس مصیبت سے شب فرقت کٹیپاؤں پیٹے آہ کی نالہ کیا

عشق افشان جبین یار میںخاک چھلنی کی طرح چھانا کیا

تھا مناسب ترک عشق یار رندؔآپ نے انسب کیا اولیٰ کیا

— رند لکھنوی