33 اشعار

کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

Khuli hai kunj-e-qafas mein meri zaban sayaad

کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

«کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیادمیں ماجرائے چمن کیا کروں بیاں صیاد

دکھائے گا نہ اگر سیر بوستاں صیادپھڑک پھڑک کے قفس ہی میں دوں گا جاں صیاد

جہاں گیا میں گیا لے کے دام واں صیادپھرا تلاش میں میری کہاں کہاں صیاد

دکھایا کنج قفس مجھ کو آب و دانہ نےوگرنہ دام کہاں میں کہاں کہاں صیاد

اجاڑا موسم گل ہی میں آشیاں میراالٰہی ٹوٹ پڑے تجھ پہ آسماں صیاد

میں کھینچوں دام میں بلبل تو آشیانہ جلابہم یہ مشورہ کرتے ہیں باغباں صیاد

عجیب قصہ ہے دلچسپ اک حکایت ہےسناؤں گا گل و بلبل کی داستاں صیاد

نہ گل کھلیں گے نہ چہکارے گا کوئی بلبلبہار باغ کو ہونے تو دے خزاں صیاد

ہمائے زندہ گھسیٹے گا دام میں شایدبجاۓ دانہ بچھاتا ہے استخواں صیاد

خبر نہیں کسے کہتے ہیں گل چمن کیساقفس کو جانتے ہیں ہم تو آشیاں صیاد

اداس دیکھ کے مجھ کو چمن دکھاتا ہےکئی برس میں ہوا ہے مزاج داں صیاد

رہے نہ قابل پرواز بال و پر میرےقفس سے اڑ کے میں اب جاوں گا کہاں صیاد

قفس کو شام سے لٹکا کے فرش خواب کے پاسسنا کیا مری تا صبح داستاں صیاد

کرے گا یاد مرے زمزموں کو بعد مرےہوں چند روز تیرے گھر میں میہماں صیاد

سناؤں واقعہ اپنا تجھے تمام و کمالجو گوش دل سے سنے میری داستاں صیاد

ستم زیادہ نہ کر حکم دے رہائی کاپکارتے ہیں گرفتار الاماں صیاد

چمن میں رکھا نہ بلبل کا نام تک باقیخدا کرے یوں ہی ہو جائے بے نشاں صیاد

ہزار مرغ خوش الحاں چہکتے ہیں ہرسوبہ از چمن ہوا اب تو ترا مکان صیاد

میں جھانکتا نہیں چاک قفس سے بھی گل کونہوی تا مری جانب سے بد گماں صیاد

اسیر کنج قفس کر بہ شوق دام میں کھینچقضا لے آئی ہے مجھ کو کشاں کشاں صیاد

پروں کو کھول دے ظالم جو بند کرتا ہےقفس کو لے کے میں اڑ جاؤں گا کہاں صیاد

نہ ہوں گا بند قفس میں بھی میں وہ بلبل ہوںہزار تجھ کو سناؤں گا داستاں صیاد

در قفس بھی کھلے گا تو اب نہ جاؤں گایقین نہ ہووے تو کر میرا امتحاں صیاد

رہا بھی ہو کے نہ بھولوں گا حق خدمت کوادائے شکر کروں گا میں ہر زباں صیاد

چمن میں بلبل و قمری کا پر نہ چھوڑے گارہا جب آٹھ پہر گھات میں نہاں صیاد

قفس پہ رکھنے لگا اب تو ہار پھولوں کےہزار شکر ہوا مجھ پہ مہرباں صیاد

عزیز رکھتا ہے کرتا ہے خاطریں میریملا ہے خوبیٔ قسمت سے قدرداں صیاد

نکالیو نہ قدم آشیاں سے او بلبللگائے بیٹھے ہیں پھندے جہاں تہاں صیاد

وہ عندلیب ہوں جل کر کروں جو نالۂ گرمقفس کے چاکوں سے اٹھنے لگے دھواں صیاد

مرے بیان کو سن سن کے کانپ کانپ اٹھاغضب یہ ہے کہ سمجھتا نہیں زباں صیاد

الٰہی دیکھیے کیونکر نباہ ہوتا ہےزباں دراز ہوں میں اور بد زباں صیاد

سوائے‌ شکر شکایت اگر کبھی کی ہوالٰہی قطع ہو منقار سے زباں صیاد

فریب دانہ نہ کھاتا میں زینہار اے رندؔنہ کرتا دام اگر خاک میں نہاں صیاد

— رند لکھنوی