7 اشعار

توبہ کا پاس رند‌ مے آشام ہو چکا

Tauba ka paas Rind-e-mai aasham ho chuka

توبہ کا پاس رند‌ مے آشام ہو چکا

«توبہ کا پاس رند‌ مے آشام ہو چکا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

توبہ کا پاس رند‌ مے آشام ہو چکابس ہو چکا تقدس اسلام ہو چکا

شمع حرم تھا گاہ گہے دیر کا چراغمیں زیب کفر و رونق اسلام ہو چکا

کوٹھے پہ چلئے لطف‌ شب ماہ دیکھیےسب چاندنی کا فرش لب بام ہو چکا

دیں دار برہمن کہے کافر بتائے شیخدونوں طرف سے مورد الزام ہو چکا

اکثر مشاعرے پہ ہوا بزم غم کا شککیا کیا مرے کلام پہ کہرام ہو چکا

قرآں اٹھاتے ہیں طمع زر کے واسطےدیں دار اگر یہی ہیں تو اسلام ہو چکا

کعبے کو جاتے جاتے پھرے سوئے دیر رندؔلو حج کر آئے آپ اور احرام ہو چکا

— رند لکھنوی