26 اشعار

مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی

Mujh balanosh ko talchhat bhi hai kaafi saaqi

مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی

«مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقیبھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقی

بھر کے پلواتا نہیں ایک پیالی ساقیساری میں مانگتا ہوں دیتا ہے آدھی ساقی

تو نے کیا آتش حل کردہ پلا دی ساقیبھون ڈالا ہے جگر آگ لگا دی ساقی

پھول مانگوں تو پلاتا ہے برانڈی ساقیکرتا ہے بزم گزشتہ کی تلافی ساقی

جام جم چاہئے رندوں کو نہ شاہی ساقیسلطنت ہے ترے کوچے کی گدائی ساقی

جام اوروں کو دیے مجھ کو پیالی ساقیخود بہکنے لگا مانند شرابی ساقی

کیا کروں پی کے بھلا ایک پیالی ساقیاس تنک ظرفی کا بندہ نہیں عادی ساقی

کب سے کہتا ہوں بلانوش میں ساقی ساقیاور پلوا دے جو ہو شیشہ میں باقی ساقی

مرض ہجر میں مے گرچہ مضر ہے لیکنمیں تو پی جاتا ہوں اللہ ہے ساقی ساقی

صبح سے شام تلک ہاتھ سے چھٹتا نہیں جامچاہئے اپنا تخلص کرے جامی ساقی

مصلحت ہوگی جو محروم رکھا مے سے مجھےفعل حکمت سے نہیں ہے ترا خالی ساقی

مست کیا جانیں کدھر دیر ہے کعبہ ہے کہاںعمر ساری تری بھٹی میں گزاری ساقی

مسجد و دیر و کلیسا کی وہ رونق نہ رہیتو نے بنیاد جو مے خانے کی ڈالی ساقی

دیکھیے صحبت نا جنس نبھے گی کیوں کرپست ہمت تو طبیعت مری عالی ساقی

فصل گل آ چکی کیا دور سے دہکاتا ہےمئے گل رنگ سے بھر بھر کے گلابی ساقی

واعظو ووہی کروں گا میں جو فتویٰ دے گاقبلہ و کعبہ و مرشد مرا ہادی ساقی

شیشہ و جام و سبو ہوں گے ابھی چکناچورمست بہکے تو بڑی ہوگی خرابی ساقی

کوئی آفت ترے مے خانے پہ آ سکتی ہےسب دعا گو ہیں یہ جتنے ہیں شرابی ساقی

صرف للٰلہ بھی مے خانے میں جاری کر دےمقتضی ہو جو تری ہمت عالی ساقی

تنگ ہو کر ترے ہر بار کے دہکانے سےکوس بیٹھے نہ کوئی رند شرابی ساقی

جو پیے گا نہ شراب آج وہ مجرم ہوگاکو بہ کو کل سے تو کر دے یہ منادی ساقی

درد بھی مجھ کو پلا دے گا تو بد مستی میںسب سنا دوں گا میں دیوان زلالی ساقی

برف پلوا کے کلیجہ مرا ٹھنڈا کر دےآب انگور نے تو آگ لگا دی ساقی

تیرا جی چاہے تو پلوا دے کوئی جام شرابہاتھ پھیلانے کا بندہ نہیں عادی ساقی

نفس گرم کی تاثیر نے مے ساغر سےشعلۂ لفظ کے مانند اڑا دی ساقی

اور تو حسرتیں سب رندؔ کے دل سے نکلیںجام کوثر کی تمنا رہی باقی ساقی

— رند لکھنوی