24 اشعار

نہیں قول سے فعل تیرے مطابق

Nahin qaul se fe'l tere mutabiq

نہیں قول سے فعل تیرے مطابق

«نہیں قول سے فعل تیرے مطابق» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

نہیں قول سے فعل تیرے مطابقکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادق

نہ جنت کے قابل نہ دوزخ کے لائقمجھے کیوں کیا خلق اے میرے خالق

ہوئے ہجر میں وہ مرض مجھ کو لاحقرہے دنگ جس میں اطبائے حاذق

بھروسا کرم پر ہے ہم عاصیوں کوغضب پر سمجھتے ہیں رحم اس کا فائق

فقط کنہ ذات اس کی اب تک نہ سمجھےہوئے منکشف اور سارے دقائق

جھگڑ لیں گے آپس میں شیخ و برہمنتجھے کیا بکھیڑوں سے او مرد عاشق

جو یہ اس کی رحمت کی طغیانیاں ہیںکجا زہد زاہد کہاں فسق فاسق

کیا نفس کو مجھ پہ کیوں تو نے غالبنہ تھا کیا تری بندگی کے میں لائق

نہ رکھنا مجھے اپنی رحمت سے محرومتری ذات سے ہے یہ امید واثق

نہ تاب آئے گی حسن کی تیرے اے دوستمیں موسیٰ نہیں ہوں جو جلوے کا شائق

تجرد کا عالم تجھے کیا برا تھاہوا کس لیے پائے بند علائق

شکایت کا فقرہ زباں تک نہ آیابہرحال کرتا رہا شکر خالق

سر و چشم سے میں بجا لاؤں صاحبجو خدمت کوئی ہووے بندے کے لائق

بھلا کس سے بہلاؤں دل اس چمن میںنہ سنبل نہ نسریں نہ گل نہ شقائق

رولاتے ہو عاشق کو بے وجہ و باعثہنسے گی مری جان تم پر خلائق

کئے معجزے حسن نے دونوں یکجاشب تیرہ گیسو جبیں صبح صادق

کہا سن کے افسانۂ قیس و لیلیٰعبث کرتے ہو حال میں ذکر سابق

گیا وہ زمانہ وہ لوگ اڑ گئے سبنہ معشوق ویسے رہے اب نہ عاشق

شنیدیم نام و نشانش ندیدیمچو عنقاست معدوم یار موافق

مری جان مدت سے مرتا ہوں تجھ پرترے چاند سے منہ کا عاشق ہوں عاشق

ہوا رشک لیلیٰ کی فرقت میں مجنوںمرا حال اور قیس کا ہے مطابق

عبث فوق دیتا ہے تو خود کو ناداںکیا ایک کو ایک پر اس نے فائق

وہ منشی بنے قدرت حق تو دیکھوجو مکتب میں پڑھتے تھے انشائے فائق

دعا ہے یہی اور یہی ہے تمنانجف میں مرے جا کے یہ رندؔ فاسق

— رند لکھنوی