18 اشعار

تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے

Tohmat-e-hasrat-e-parwaz na mujh par bandhe

تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے

«تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھےوجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھے

باغباں گھات میں صیاد ہمیشہ موجودآشیاں باغ میں بلبل کہو کیوں کر باندھے

جو چھری دیکھ کے قصاب کی تھراتے تھےشان حق ہے وہی اب پھرتے ہیں خنجر باندھے

کل کیا تھا جو مرے چاک گریباں میں رفواس خطا پر گئے ہیں آج رفو گر باندھے

ہو چکا تھا جو مرے تیز پری سے آگاہچست کر کے مرے صیاد نے شہ پر باندھے

شعرا کھائیں گے کیا کیا نہ ابھی تو دھوکےسرو باندھے کوئی اس قد کو صنوبر باندھے

معجزہ لب ترا گویا کرے اے رشک کلیمجو زباں سحر سے یہ چشم فسوں گر باندھے

مطمئن بیٹھ تو صیاد نہ کر قید شدیدہوں میں پابند محبت ترا بے پر باندھے

باغ عالم میں اسی کے لیے ہے نشو و نماصورت غنچہ رہے گانٹھ میں جو زر باندھے

بوسہ مانگا جو شب وصل تو بولا ہنس کرکہیں ایسا نہ ہو ہر روز کی تو کر باندھے

دل کی بیتابی سے ٹانکے مرے سب ٹوٹ گئےپٹی جراح کہو زخم پہ کیوں کر باندھے

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہےآشیاں بام پر اس کے نہ کبوتر باندھے

امتی کیا کریں الجوع نہ چلائیں اگربھوک میں جبکہ نبی پیٹ پہ پتھر باندھے

افترا کرنے میں طوفان ہے وہ شوخ ظریفتوتیا تازہ کوئی اور نہ مجھ پر باندھے

مجھ سا محرم ترے محرم کا نہ ہوگا کوئیبیشتر کھول دیے بند اور اکثر باندھے

دست صنعت سے بنے اس کے اگر تجھ سا بتکیوں ہوا اپنی خدائی کی نہ آذر باندھے

شاعری کے لئے لازم ہے تلازم نہ چھٹےلعل لب کو ترے تو دانتوں کو گوہر باندھے

پائے رفتار اگر ہوتے تو چلتا پھرتارندؔ مردا سا پڑا رہتا نہ یوں سر باندھے

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں