21 اشعار

تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا

Tu aap ko posheeda-o-ikhfa na samjhna

تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا

«تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنامیں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنا

کم شیر ژیان سے مرا رتبہ نہ سمجھناکتا ہوں علی کا سگ دنیا نہ سمجھنا

گو زار ہوا ہوں مگر امداد جنوں سےہے دیو کی طاقت مجھے مردا نہ سمجھنا

ہمراہ مرے رہتی ہے ہر دم مدد غیبلاکھوں پہ ہوں بھاری مجھے تنہا نہ سمجھنا

بزم غم شپیر میں جو چشم سے نکلےہر اشک کو تسبیح کا اک دانہ سمجھنا

جو دل کہ مبرا ہو محبت سے جہاں کیاس دل کو دلا یار کا کاشانہ سمجھنا

نامہ جو لکھا ہے اسے رکھ چھوڑیو صاحبوہ خط غلامی ہے نوشتا نہ سمجھنا

کافر ہوں نہ پھونکوں جو ترے کعبہ میں اے شیخناقوس بغل میں ہے مصلٰی نہ سمجھنا

دیدار دکھا دیجئے غش آئیں تو آئیںعاشق ہوں میں عاشق مجھے موسیٰ نہ سمجھنا

رکھنا نہ توقع دل ناداں تو کسی سےاس وقت میں اپنوں کو بھی بیگانہ سمجھنا

حاصل نہیں سمجھانے سے ناصح تو سمجھ توکیا سمجھے بھلا یہ دل دیوانہ سمجھنا

بہکا ہوا عاشق نظر آ جائے جو کوئیاس چشم فسوں ساز کا دیوانہ سمجھنا

چاہوں تو نکل جاؤں ابھی پیچ سے تیرےالجھا مجھے او زلف چلیپا نہ سمجھنا

سر کٹ کے جو قدموں پہ گرے راہ وفا میںیہ بھی مدد ہمت مردانہ سمجھنا

صحت تری ممکن نہیں سن رکھ دل بیماریہ گورکن آیا ہے مسیحا نہ سمجھنا

ہر حال میں خورسند ہوں تم خوش ہو کہ ناخوشبندہ ہوں مجھے عاشق شیدا نہ سمجھنا

پلوا دے مے ہوشربا دیکھ مرا ظرفساقی جو بہک جاؤں تو دیوانہ سمجھنا

آ جائے کوئی ڈھیر اگر پاؤں کے نیچےاے شمع رخو مرقد پروانہ سمجھنا

دیکھو کسی چہرہ پہ جو گیسو کوئی بل دارافعی ہے اسے زلف چلیپا نہ سمجھنا

جویا ہے اگر رتبہ عالی کا جہاں میںادنیٰ سے بھی خود کو کبھی اعلیٰ نہ سمجھنا

اے رندؔ نہ ٹکنا کبھی ارباب ورع پاسمل بیٹھنا اس سے جسے رندانہ سمجھنا

— رند لکھنوی