6 اشعار

جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے

Jab khud tarap ke woh meri baahon mein aa gaye

جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے

«جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئےسب ولولے سمٹ کے نگاہوں میں آ گئے

بڑھتی گئیں زمانے کی جب سرد مہریاںدل کھنچ کے خود غموں کی پناہوں میں آ گئے

دل پھنک رہا ہے سینے میں دن رات اے خداشعلے کہاں سے یہ مری آہوں میں آ گئے

جتنی بھی شکنیں پڑتی گئیں فرق ناز پراتنے ہی خم نیاز کی راہوں میں آ گئے

کچھ سوجھتا نہیں ہے مجھے اب سوائے غمجب سے کہ آپ میری نگاہوں میں آ گئے

ساحرؔ ثواب میں ہو کشش کس لئے کہ جبسارے مزے سمٹ کے گناہوں میں آ گئے

— ساحر بھوپالی