14 اشعار

سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی

Sar ko hua hai phir wahi sauda-e-zindagi

سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی

«سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگیگویا ہے تیری یاد مسیحائے زندگی

کیوں دم بدم فزوں ہے تمنائے زندگیشاید کہ غم ہوا ہے شناسائے زندگی

کرتا پھر ان سے کون تقاضائے زندگیبس اک نظر میں ہو گیا سودائے زندگی

اب کس لئے ہو مجھ کو تمنائے زندگیجب تو نہیں تو ہیچ ہے دنیائے زندگی

وہ گردش مدام سے گھبرا نہ جائے کیوںجس کی امید و بیم میں کٹ جائے زندگی

شہہ پا کے چشم مست کی پینا پڑی مجھےہر چند تند و تلخ تھی صہبائے زندگی

وہ تو اڑا کے لے گئی مجھ کو ہوائے شوقنا قابل عبور تھا صحرائے زندگی

پروانہ کر کے ہمت مردانہ جل بجھےپھر کیوں نہ ایسی موت سے شرمائے زندگی

بے آس کر کے چھوڑ گئی آرزو تو پھرراحت فزائے غم ہوئی ایذائے زندگی

دل میں وفور شوق کا طوفاں لئے ہوئےپی کر چلا ہوں بزم سے صہبائے زندگی

اب بے کسان شوق کی مجبوریاں نہ پوچھتھی منحصر امید پہ احیائے زندگی

اے جبر حسن دیکھ مرے بس میں کیا نہیںدنیا کے غم ہیں آج مہیائے زندگی

ہر شوق پائمال ہے ہر آرزو تباہاب کیجے کس امید پہ دعوائے زندگی

ساحرؔ نہ جس کو جور زمانہ مٹا سکاوہ شرمسار مرگ ہوں رسوائے زندگی

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں