8 اشعار

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

Khuda ke waste ab be-rukhi se kaam na le

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

«خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لےتڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے

بس ایک سجدۂ شکرانہ پائے ساقی پریہ مے کدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے

وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پراب اتنا سخت محبت سے انتقام نہ لے

زمانے بھر میں ہیں چرچے مری تباہی کےمیں ڈر رہا ہوں کہیں کوئی تیرا نام نہ لے

مٹا دو شوق سے مجھ کو مگر کہیں تم سےزمانہ میری تباہی کا انتقام نہ لے

میں جانوں جب کہ بجھا دے تو تشنگی دل کیوگرنہ آج سے دریا دلی کا نام نہ لے

نہیں وہ حسن جو عاشق کو شاد کام کرےنہیں وہ عشق جو ناکامیوں سے کام نہ لے

رکھوں امید کرم اس سے اب میں کیا ساحرؔکہ جب نظر سے بھی ظالم مرا سلام نہ لے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں